اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز کراچی پولیس کے سربراہ فیاض لغاری نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ذرائع کو بتایا کہ ان کے بقول "گرفتار کئے گئے" آٹھ شیعہ نوجوانوں کا تعلق کالعدم سپاہ محمد سے ہے جبکہ یہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔ لغاری نے ان پر 12افراد کو قتل کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ سی سی پی او کراچی نے پریس کانفرنس میں دعوی کیا کہ گرفتار نوجوانوں کو اتوار کی صبح این ای ڈی یونورسٹی کے قریب سے ایک پولیس مقابلے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے!!!یہ بات انتہائی قابل غور ہے کہ مذکورہ شیعہ نوجوان سب کے سب بے گناہ ہیں جنہیں اتوار کی صبح بھی نہیں بلکہ کئی روز قبل ان کے گھروں اور عوامی مقامات سے علیحدہ علیحدہ گرفتار کرکے لاپتہ کر دیا گیا تھا۔
اس کے بعد پورے ملک میں احتجاج کیا گیا اور شیعہ قائدین نے مذمتی بیانات جاری کئے اور پریس کانفرنسوں سے خطاب کرتے ہوئے لاپتہ نوجوانوں کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔ بات یہاں تک بھی پہنچی کہ لاپتہ نوجوانوں کے والدین نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور ہائی کورٹ کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤ ڈالا گیا کہ ان نوجوانوں کو جلد از جلد عدالت کے روبرو پیش کیا جائے تب جاکر پولیس نے نہایت گھناؤنی سازش رچاتے ہوئے آٹھ بےگناہ شیعہ نوجوانوں کو کالعدم سپاہ محمد سے منسلک کرتے ہوئے بارہ افراد کے قتل کے جھوٹے مقدمات میں ملوث قرار دیا؟۔ یہ ان لوگوں کا کردار ہے جو قانون کے محافظ کہلاتے ہیں!؟۔کراچی پولیس کے سربراہ نے شیعہ بے گناہ نوجوانوں پر مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہاہے کہ انھوں نے تربیت پاراچنار میں حاصل کی ہے جبکہ ان کے گروپ کا سربراہ تنویر عباس ہے۔پولیس چیف نے مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ نوجوانوں کے ساتھ کل 18افراد کا گروپ ہے جو کہ کراچی کے مختلف علاقوں بفرزون، اورنگی ٹاؤن، نارتھ کراچی اور ملیر کے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ٹارگٹ کلنگ کے لئے خصوصی کلرز بھی رکھے ہوئے ہیں جنہیں باقاعدہ تنخواہ بھی فراہم کی جاتی ہے۔واضح رہے کہ پولیس چیف کی جانب سے لگائے گئے جھوٹے الزامات کو ثابت کرنے کے لئے یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ تمام کے تمام گرفتار کئے گئے شیعہ بے گناہ نوجوانوں کو یوم عاشور کے بعد سے ہی قانون نافذ کرنے والے اور حساس اداروں نے مختلف مقامات، گھروں، بازاروں اور کینٹ اسٹیشن جیسے مقامات سے گرفتار اور لاپتہ کرکے خفیہ مقامات پر منتقل کر دیا تھا تاہم لا پتہ کئے گئے بے گناہ شیعہ نوجوانوں کے اہل خانہ کی جانب سے اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی دائر ہے اور اس پر سندھ ہائی کورٹ نے لا پتہ نوجوانوں کو بازیاب کروانے کی ہدایات بھی جاری کی تھیں تاہم سی سی پی او کا یہ دعویٰ کے انھیں اتوار کے روز پولیس مقابلے کے بعد گرفتار کیا گیاہے خود پولیس انتظامیہ پر سوالیہ نشان ہے؟؟؟؟
بشکریہ از شیعیت نیوز
دریں اثناء گذشتہ کئی دنوں میں کئی شیعہ کراچی اور ملک کے دیگر شہروں میں شہید ہوئے ہیں اور کل اور آج بھی یہ سلسلہ جاری رہا ہے لیکن نہ صرف ان کے قاتلوں کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے بلکہ گذشتہ سال کے روز عاشور اور روز اربعین کے سو سے زائد شہیدوں کے قاتل بھی گرفتار نہیں کئے جاسکے ہیں اور لگتا ہے کہ شاید یا تو حقیقی حکمران دہشت گرد ٹولے ہیں جو اتنے طاقتور ہیں کہ سیکورٹی فورسز ان پر ہاتھ ڈالنے سے گھبراتے ہیں یا اپنی ناقص کارکردگی چھپانے اور شیعہ پاکستانیوں کے قاتلوں کی گرفتاری کی ضرورت سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو بصورت دیگر عام شہریوں کو تو سیکورٹی فورسز بھی دہشت گردوں کی صف میں ہی نظر آئیں گی۔ اب یہ سیکورٹی فورسز کی مرضی ہے کہ وہ یا تو حقیقی دہشت گردوں پر ہاتھ ڈال کر اپنا دامن صاف کریں یا پھر ان الزامات میں سے کوئی ایک اپنے ذمے لینے کی جرأت کریں۔
......../110
خاص خاص لنکس:
- میڈیا کو لاپتہ شیعہ نوجوانوں کی بازیابی کے لئے جراتمندانہ کردار ادا کرنا چاہیے
- ملت جعفریہ ملک گیر احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہےعلامہ سید حسن ظفر نقوی
- فرقہ واریت کو ہوا دینے اور امن و امان کی صورت حال کو خراب کرنے کی سنگین سازش
- حکومت لاپتہ شیعہ نوجوانوں کو فی الفور بازیاب کروائے
- شیعہ نوجوانوں کی بازیابی کے لئے سندھ ہائی کورٹ کا نوٹس
- عزاداران امام حسین (ع) کےخلاف بے بنیاد مقدمات کی مذمت کرتے ہیں